۱۷ مئی ۱۹۹۲
ازبکستان، انگیرین
https://maps.app.goo.gl/d1yTMambnYQajkjL6
https://en.wikipedia.org/wiki/Angren,_Uzbekistan
محبوب العلماء و الصلحاء شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی (دامت برکاتہ) نے سنہ ١٩٩٢ء میں بخارا کے مختلف علاقوں کا سفر کیا، جو برکتوں، سبق آموز اور ان گنت متنوع واقعات سے پُر تھا۔
اس سفر کا ایک اہم دن ١٧ مئی ١٩٩٢ء، بروز اتوار تھا۔ اس روز آپ اپنے ہم سفر مولانا عبداللہ اور ابو عثمان کے ساتھ ازبکستان کے پہاڑی علاقوں میں سفر کر رہے تھے۔ پہاڑوں کی خوبصورتی دیکھ کر مسرور ہوئے اور وہاں لگے ایک خیمے میں قیام کر کے ذکر میں مشغول ہو گئے۔
خیمے میں قیام کے دوران ایک شخص نے آ کر حضرت کو خبر دی: "کچھ نوجوان ریسٹورنٹ میں شراب نوشی کر رہے ہیں! شراب پی کر وہ جلد ہی جشن و مسرت کے لیے خیمے میں داخل ہوں گے۔"
شیخ کو خبر ملتے ہی انہوں نے حکم دیا: "انہیں یہاں لے آؤ۔"
ان نوجوانوں نے شیخ کی بلانےپر فوراً حاضر ہو گئے۔
شیخ کے دل میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت اتنی غالب تھی کہ انہوں نے نوجوانوں کے دلوں پر توجہ فرمائی، ان کے دلوں میں عشقِ حقیقی (اللہ کی سچی محبت) کو بیدار کر دیا، تاکہ ان کے دلوں سے فانی دنیا کی پر فریب عیش و عشرت دور ہو جائے۔ انہوں نے ان کے سامنے قرآن کی آیات کی تلاوت شروع کی تو نوجوانوں کی آنکھوں میں ندامت جھلکنے لگی۔
تب انہوں نے انہیں بیعت کرایا اور نصیحت کی: "گناہوں بھری زندگی کو چھوڑ کر فلاح (بھلائی) کے راستے پر واپس آ جاؤ۔"
پندرہ (١٥) نوجوانوں نے فوراً رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے اسی لمحے توبہ کی اور گناہوں سے بھری زندگی ترک کر کے روشنی کے راستے پر آ گئے۔
شیخ نے تب آہستہ سے مسکرا کر یہ شعر پڑھا:
"نشہ پلا کر مدہوش تو سبھی کر سکتے ہیں۔
اصل مزہ تو تب ہے جب نشے میں دھت خود نشہ چھوڑ دے!"
تصویر: انگیرین کا پہاڑی راستہ اور قدرتی مناظر