۱۹ جولائی ۱۹۹۲

ایک سادھو کا قبولِ اسلام

ماسکو سینٹرل ایکسچینج، روسى
جگہ:

ماسکو سینٹرل ایکسچینج، روسى

گوگل نقشہ:

https://maps.app.goo.gl/jv6nioWjGixVubHY7

خلاصہ:

https://en.wikipedia.org/wiki/Moscow_Exchange

ایک سادھو کا قبولِ اسلام

۱۹ جولائی ۱۹۹۲

١٩ جولائی ١٩٩٢ء کو حضرت جی (دامت برکاتہ) پاکستان فون کرنے کے لیے ماسکو ٹیلی فون ایکسچینج تشریف لے گئے۔ روس سے بیرونِ دنیا کال کرنے کے لیے کال بُک کرنی پڑتی ہے۔ چنانچہ وہاں کال بُک کر کے حضرت جی ویٹنگ روم میں انتظار کرنے لگے۔

ویٹنگ روم میں اور بہت سے مرد و خواتین موجود تھے، جو فون کرنے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ اپنی نگاہ کی حفاظت کے لیے حضرت جی آنکھیں بند کر کے مراقبہ کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص ان پر "تصرّف" کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا ان کے دل پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حضرت جی نے آنکھیں کھولی تو دیکھا کہ ایک سادھو سامنے ہی بیٹھا یہ کام کر رہا ہے اور ان کی طرف دیکھتے ہی اس نے بھی آنکھیں کھولیں اور مسکرا دیا۔

معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ سادھو چیکوسلواکیہ کا رہنے والا تھا، شری کرشن کا عقیدت مند تھا اور اسی اصول کے مطابق مراقبہ کرتا تھا۔ وہ اپنے ٢١ شاگردوں اور بیوی کے ساتھ ماسکو سیر کے لیے آیا ہوا تھا۔ یہاں بیٹھے اس نے حضرت جی کی طرف دیکھ کر مراقبہ کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی، لیکن الٹا اس کی تمام طاقتیں لمحوں میں ختم ہو گئیں اور اس نے خود کو بالکل خالی محسوس کیا۔ اس نے حضرت جی سے درخواست کی کہ وہ اس کی حالت پہلے جیسی کر دیں۔

حضرت جی نے اسے اور اس کی بیوی کو مسجد آنے کا حکم دیا۔ وہاں دوبارہ اس سادھو نے مسلسل آٹھ (٨) گھنٹے حضرت جی پر مراقبے کے ذریعے اثر ڈالنے کی کوشش کی۔

بالآخر جب وہ ناکام ہوا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: "اس شخص نے تمہاری ساری طاقت چھین لی ہے اور تم آٹھ گھنٹے کوشش کے باوجود اسے واپس حاصل نہیں کر پا رہے ہو۔ اس صورت میں تو تم اسی کی شاگردی اختیار کر لو۔"

آخرکار سادھو نے یہ فیصلہ کر لیا اور وہ دونوں کلمہ پڑھ کر حضرت جی کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔ شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی نے انہیں اسلام کے اہم امور سمجھائے۔

سادھو سے مسلمان ہونے والے نومسلم نے کہا: "میں اپنے تمام شاگردوں کو خط کے ذریعے بتا دوں گا کہ میرے رب نے مجھے سچائی کی روشنی سے منوّر کر دیا ہے۔ میں مسلمان ہو چکا ہوں، تم سب بھی مسلمان ہو جاؤ۔"

میاں بیوی بعد میں حضرت جی کے ساتھ ماسکو سے لینن گراڈ (موجودہ سینٹ پیٹرزبرگ) تک سفر میں بھی ساتھ رہے۔

اس طرح حضرت جی کی صحبت میں آ کر ان کا تاریکی سے روشنی کے سفر کا آغاز ہوا۔ عام انسانوں سے وہ غیر معمولی ہستیوں میں بدل گئے۔

شاعر کہتا ہے:

                  جمالِ ہمنشیں در من اثر کرد

                  وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

ترجمہ: میرے دوست کی صحبت نے مجھ پر اثر کیا،

         ورنہ میں تو وہی مٹی ہوں جو تھا (شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ)

حوالہ:

  1. لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند، (شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہ)

تصویر: ماسکو سینٹرل ایکسچینج،روسى)